المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّرْهِيبِ مِنْ سوء التقاضي وَمَنْ المطل باب: حق کے تقاضے میں بدسلوکی اور ادائیگی میں ٹال مٹول سے ڈرانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ ، ثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : مَنْ دَايَنَ النَّاسَ بِدَيْنٍ يَعْلَمُ اللهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُرِيدُ قَضَاءَهُ ، فَأَتَاهُ أَجَلُهُ دُونَ ذَلِكَ ، أَرْضَى اللهُ تَعَالَى هَذَا مِنْ حَقِّهِ وَتَجَاوَزَ عَنْهُ . وَمَنْ دَايَنَ النَّاسَ بِدَيْنٍ يَعْلَمُ اللهُ تَعَالَى أَنَّهُ لَا يُرِيدُ قَضَاءَهُ ، أَقَصَّ اللهُ مِنْهُ ، وَقَالَ : حَسِبْتَ أَنِّي لَمْ أَقْتَصَّ لَكَ مِنْهُ ! .سیدنا ابو امامہ -رضی اللہ عنہ- سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جو شخص لوگوں سے اس حال میں قرض لے کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہو کہ وہ اسے ادا کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے، پھر اس کی ادائیگی کی نوبت آنے سے پہلے ہی اسے موت آ جائے، تو اللہ تعالیٰ اس (قرض خواہ) کو اس کے حق کے عوض (اپنی جانب سے) راضی کر دے گا اور اس (مقروض) سے درگزر فرمائے گا۔ اور جو شخص لوگوں سے اس حال میں قرض لے کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہو کہ وہ اسے ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کا قصاص (بدلہ) لے گا، اور (قرض خواہ سے) فرمائے گا: کیا تو نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ میں تیرے لیے اس سے بدلہ نہیں لوں گا؟“