المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ باب: نیند کے سبب وضو کرنے کا بیان۔
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ : " إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ مُضْطَجِعًا فَلْيَتَوَضَّأْ " فَقِيلَ لَهُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ مُضْطَجِعًا فَلَا يَتَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ : " لَسْتُمْ كَرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ كَانَ مِنْ رَسُولِ اللهِ شَيْءٌ عَلِمَهُ " .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی پہلو کے بل لیٹ کر سو جائے تو اسے وضو کر لینا چاہیے“، تو ان سے عرض کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ تو پہلو کے بل لیٹ کر سو جایا کرتے تھے اور (نماز کے لیے) دوبارہ وضو نہیں فرماتے تھے؟ انہوں نے جواباً ارشاد فرمایا: ”تم لوگ رسول اللہ ﷺ کے مانند نہیں ہو، اور اگر رسول اللہ ﷺ کے حق میں (نیند کی وجہ سے وضو ٹوٹنے جیسا) کوئی معاملہ ہوتا تو آپ ﷺ اسے سب سے بہتر جانتے تھے“۔
اس اثر کو امام ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب 'المصنف' (حدیث: 593) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں المسعودی (عبد الرحمن بن عبد اللہ) راوی کے حافظے میں عمر کے آخری حصے میں اختلاط واقع ہو گیا تھا، تاہم یہ روایت نیند کے ناقضِ وضو ہونے کے باب میں صحابیِ رسول کا ایک اہم فقہی استدلال پیش کرتی ہے۔