❮
❯
حدیث نمبر: 140
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ ثَوَابٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَدَّاعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَيْفِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَرِجَالٌ مَعِي عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الرَّجُلِ يَمَسُّ فَرْجَهُ ، وَعَنِ الْمَرْأَةِ تَمَسُّ فَرْجَهَا ، فَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا أُبَالِي إِيَّاهُ مَسِسْتُ أَوْ أَنْفِي " .
ترجمہ

سیف بن عبید اللہ الحمیری سے روایت ہے کہ میں اور میرے ہمراہ کچھ دیگر افراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ہم نے ان سے اس مرد کے متعلق سوال کیا جو اپنی شرمگاہ کو چھو لے، اور اس عورت کے متعلق جو اپنی شرمگاہ کو چھو لے، تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مجھے اس بات کی قطعاً کوئی پروا نہیں کہ میں اسے (یعنی اپنی شرمگاہ کو) چھوؤں یا اپنی ناک کو مس کروں۔“
اس حدیث کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس کے راوی مفضل بن ثواب اور حسین بن وداع مجہول ہیں، تاہم متن کے اعتبار سے یہ روایت ان فقہاء کے نزدیک دلیل ہے جو شرمگاہ کو چھونے سے وضو کے ٹوٹنے کے قائل نہیں ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 140
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده مجهول. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 1258، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 604»