المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الْفَرْجِ باب: شرمگاہ (عضوِ تناسل) کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 139
وَقَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ مُخَارِقِ بْنِ أَحْمَرَ الْكِلَابِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فِي مَسِّ الذَّكَرِ ، فَقَالَ : " مَا أُبَالِي مَسِسْتُ إِيَّاهُ أَوْ أَنْفِي وَأُذُنِي " . قَالَ يَحْيَى : أَوْ أَحَدَهُمَا .
139 \ 2 - حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : سُئِلَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عضوِ تناسل کو چھونے کے متعلق مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”مجھے اس بات کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں کہ میں نے اسے چھوا ہے یا اپنی ناک اور اپنے کان کو۔“ یحییٰ نامی راوی نے (شک کی بنا پر) یہ الفاظ کہے: ”یا ان میں سے کسی ایک کو۔“
براء بن قیس سے روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے شرمگاہ کو مس کرنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے اسی طرح کا موقف بیان فرمایا۔