المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ المزارعة باب: مزارعت یعنی زمین بٹائی پر دینے کے شرعی احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1362
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا أَخَذَ مِنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - أَرْضًا ، فَاشْتَرَطَ أَنْ لَا يَجْعَلَ فِيهَا عَذِرَةً ، فَقَالَ : إِنَّهُ لَا يُصْلِحُهَا إِلَّا ذَاكَ . قَالَ : إِنْ كَانَ لَا يُصْلِحُهَا إِلَّا ذَاكَ فَدَعْهَا .ترجمہ
ابومحمدؒ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر -رضی اللہ عنہما- سے زمین حاصل کی، تو انہوں نے یہ شرط عائد فرمائی کہ وہ اس میں انسانی فضلہ نہیں ڈالے گا، جس پر اس شخص نے عرض کی: ”یقیناً اس کے علاوہ کوئی چیز اس زمین کی اصلاح نہیں کرتی (اسے زرخیز نہیں بناتی)“، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس کے سوا کوئی چیز اسے درست نہیں کرتی تو پھر تم اسے چھوڑ دو“۔