❮
❯
حدیث نمبر: 1359
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ، قَالَ : بَعَثَنِي عَمِّي مَعَ غُلَامٍ لَهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، فَقَالَ : مَا تَقُولُ فِي الْمُزَارَعَةِ ؟ فَقَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا ، حَتَّى حَدَّثَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِيهَا حَدِيثًا : أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى بَنِي حَارِثَةَ ، فَرَأَى زَرْعًا فِي أَرْضِ ظُهَيْرٍ ، فَقَالَ : مَا أَحْسَنَ أَرْضَ ظُهَيْرٍ ؟ فَقَالُوا : إِنَّهُ لَيْسَ لِظُهَيْرٍ . قَالَ : أَلَيْسَتْ أَرْضَ ظُهَيْرٍ ؟ قَالُوا : بَلَى ، وَلَكِنَّهُ زَارَعَ فُلَانًا ، فَقَالَ : رُدُّوا عَلَيْهِ نَفَقَتَهُ ، وَخُذُوا زَرْعَكُمْ .
قَالَ رَافِعٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَأَخَذْنَا زَرْعَنَا ، وَرَدَدْنَا عَلَيْهِ نَفَقَتَهُ .
ترجمہ

ابوبکر، یحییٰ بن سعید قطان سے اور وہ ابوجعفر خطمی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ میرے چچا نے مجھے اپنے ایک غلام کے ساتھ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی طرف بھیجا اور دریافت کروایا کہ آپ مزارعت (بٹائی پر زراعت) کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں ایک حدیث بیان کی کہ ”رسول اللہ ﷺ بنو حارثہ کے ہاں تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی اور ارشاد فرمایا: ”ظہیر کی زمین کس قدر عمدہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ (یہ کھیتی) ظہیر کی نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا یہ زمین ظہیر کی نہیں ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (زمین ان ہی کی ہے)، لیکن انہوں نے فلاں شخص کے ساتھ مزارعت (بٹائی) کا معاملہ کیا ہے، تو آپ ﷺ نے حکم دیا: ”اسے اس کے اخراجات واپس کر دو اور اپنی کھیتی لے لو۔““ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”چنانچہ ہم نے اپنی کھیتی لے لی اور اسے اس کے اخراجات واپس کر دیے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1359
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 2214، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 2886، وأخرجه سنن النسائي برقم: 3889، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 3395، 3397، 3399، 3402، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 2459، 2465، وأخرجه مسند أحمد برقم: 4490، 4572، 5297، 15376، 15397، وأخرجه موطأ مالك برقم: 1415، وأخرجه فتح الباري برقم: 2220، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 11403، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 14463، 14464، 14465، 14467، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 2323، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 569، 4251، 4252، 4254، 4255، 4256، 4264، 4265، 4266، 4269، 4275، 4276، 4278، 4279، 4280، 4281، 4282، 4302، 4303، 4304، 4305، 4306، 4307، 4308، 4311، 4312، 4314، 4315، 4316، 4317، 4318، 4319، 4320، 4329، 4330، 4332، 4333، 4334، 4337، 4353، 4355، 4356، 4358، 4359، 4360، 4361، 4362، 4363، 4365، 4366، 4367، 4369، 4371، 4372، 4418، 4423، 4425، 4439، 4443، 4446، 4447، 4756، 4822، 4917، 5635، 8266، 8267، 10880، 10881، 10883، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 311، 397، 1914، 2486، 3329، 6137، 7799، 8326، 8950، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 6001، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 4850، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 2670، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2950»