❮
❯
حدیث نمبر: 1358
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَا : إِنَّ رَجُلًا كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : هَلْ لَكَ أَنْ أُزَارِعَكَ ، فَمَا أَخْرَجَ اللهُ مِنْ شَيْءٍ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَقَالَا : سَلِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا ، فَقَالَ لَهُمَا : إِنَّهُ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ! فَقَالَا لَهُ : انْطَلِقْ ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ حَرَامًا نَهَاكَ عَنْهُ . فَزَارَعَهُ حَتَّى إِذَا اهْتَزَّ زَرْعُهُ أَوِ اخْضَرَّ ، وَكَانَ عَلَى طَرِيقِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرَّ بِهِ يَوْمًا ، فَقَالَ : لِمَنْ هَذِهِ الْأَرْضُ ؟ فَقَالُوا : لِفُلَانٍ ، زَارَعَ بِهَا فُلَانًا . فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ادْعُهُمَا ! . فَجَاءَا جَمِيعًا ، فَقَالَ لِصَاحِبِ الْأَرْضِ : رُدَّ إِلَى هَذَا مَا أَنْفَقَ فِي أَرْضِكَ ، وَلَكَ مَا أَخْرَجَتْ أَرْضُكَ ! .
لَمْ يُخْرِجُوهُ بِهَذَا السِّيَاقِ .
ترجمہ

جریر، عبدالعزیز بن رفیع سے اور وہ سیدنا رفاعہ بن رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ان دونوں نے بیان کیا کہ ایک شخص کے پاس زمین تھی، تو اس سے ایک دوسرے شخص نے کہا: ”کیا آپ کا ارادہ ہے کہ میں آپ کے ساتھ مزارعت (حصے داری پر کاشتکاری) کروں، پھر اللہ تعالیٰ جو بھی غلہ پیدا فرمائے گا وہ میرے اور آپ کے درمیان (مشترک) ہوگا؟“ اس نے جواب دیا: ”ہاں، لیکن پہلے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کر لوں۔“ پھر وہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو ان دونوں نے کہا: ”تم نبی کریم ﷺ سے پوچھ لو۔“ چنانچہ اس نے آپ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے اسے (خاموشی کی بنا پر) کوئی جواب نہ دیا، تو اس نے ان دونوں سے کہا: ”آپ ﷺ نے مجھے کوئی جواب نہیں لوٹایا!“ تو ان دونوں نے اس سے کہا: ”تم یہ معاملہ کر لو، کیونکہ اگر یہ حرام ہوتا تو آپ ﷺ تمہیں اس سے منع فرما دیتے۔“ چنانچہ اس نے اس کے ساتھ مزارعت کا معاملہ کر لیا یہاں تک کہ جب اس کی کھیتی لہلہانے لگی یا سرسبز و شاداب ہو گئی، اور وہ زمین نبی کریم ﷺ کی گزرگاہ پر واقع تھی، تو ایک دن آپ ﷺ کا وہاں سے گزر ہوا اور آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ زمین کس کی ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: ”فلاں کی ہے، جس نے فلاں شخص کے ساتھ اس میں مزارعت کا معاملہ کیا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں کو بلاؤ!“ پس وہ دونوں ایک ساتھ حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے زمین کے مالک سے فرمایا: ”اس شخص نے تمہاری زمین پر جو کچھ خرچ کیا ہے وہ اسے واپس کر دو، اور تمہاری زمین نے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ تمہارا ہی ہے!“ ائمہ حدیث نے اس روایت کو اس مخصوص سیاق و سباق کے ساتھ نقل نہیں کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1358
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»