❮
❯
حدیث نمبر: 1360
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ كِرَاءِ الزَّرْعِ وَالْإِجَارَةِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ أَرْضًا أَوْ تُعَارَ . قَالَ : فَأَعَارَ أَبِي أَرْضًا فَزَرَعَهَا ، وَبَنَى فِيهَا بَيْتًا ، فَرَكِبَ أَبِي يَوْمًا فَرَأَى الْبُنْيَانَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : بَنَى الَّذِي أَعَرْتَهُ أَرْضَكَ ، فَقَالَ : أَعِوَضًا مِمَّا أَعَرْتُهُ ؟ فَأَمَرَ بِالْبُنْيَانِ فَهُدِمَ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ بَعْضُهُ مُرْسَلٌ ، وَبَعْضُهُ مَوْقُوفٌ .
ترجمہ

اسحاق نے جریر اور عبدالعزیز بن رفیع کے واسطے سے رفاعہ بن رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ”رسول اللہ ﷺ نے کھیتی کی بٹائی اور اسے اجرت پر دینے سے منع فرمایا ہے، سوائے اس کے کہ آدمی زمین خرید لے یا اسے بطور عاریت دے دی جائے“۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر میرے والد نے ایک زمین عاریت پر دی تو اس شخص نے اس میں کاشتکاری کی اور وہاں ایک گھر بھی تعمیر کر لیا، ایک دن میرے والد سواری پر نکلے تو انہوں نے وہ عمارت دیکھی اور دریافت کیا: ”یہ کیا ہے؟“ عرض کیا گیا: ”یہ اس شخص نے تعمیر کی ہے جسے آپ نے اپنی زمین عاریت پر دی تھی“، اس پر انہوں نے فرمایا: ”کیا یہ اس کے عوض ہے جو میں نے اسے عاریت پر دی تھی؟“ چنانچہ انہوں نے اس عمارت کے متعلق حکم دیا اور اسے گرا دیا گیا۔ یہ سند صحیح ہے، اس کا کچھ حصہ مرسل اور کچھ موقوف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1360
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ بَعْضُهُ مُرْسَلٌ ، وَبَعْضُهُ مَوْقُوفٌ . »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 16، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5526، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2951»