المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ السماحة فِي البيع والتقاضي باب: خرید و فروخت اور حق کا تقاضا کرنے میں نرمی و فراخ دلی کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثَنَا سَالِمٌ الْخَيَّاطُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَنَّهُ سَاوَمَ رَجُلًا بِأَرْضٍ حَتَّى وَجَبَ الْبَيْعُ ، أَوْ كَادَ أَنْ يَجِبَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَاللهِ لَا أُعْطِيكَ حَتَّى تَزِيدَنِي عَشَرَةَ آلَافٍ . فَالْتَفَتَ عُثْمَانُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِلَى رَجُلٍ ، فَقَالَ : أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : رَحِمَ اللهُ رَجُلًا سَمْحَ التَّقَاضِي ، سَمْحَ الِاقْتِضَاءِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . فَزَادَهُ عَشَرَةَ آلَافٍ ، وَأَخَذَ الْأَرْضَ .ابو یعلیٰ نے اپنی سند سے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص سے زمین کا سودا کیا یہاں تک کہ بیع پختہ ہوگئی یا پختہ ہونے کے قریب تھی، تو اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کو یہ زمین اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک کہ آپ مجھے دس ہزار مزید نہ دے دیں، پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: «رَحِمَ اللهُ رَجُلًا سَمْحَ التَّقَاضِي، سَمْحَ الِاقْتِضَاءِ» ”اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو (اپنے حق کا) تقاضا کرنے میں نرم خو ہو اور (حق کی) وصولی میں نرمی برتنے والا ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے دس ہزار کا مزید اضافہ دے دیا اور زمین حاصل کر لی۔