المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ السماحة فِي البيع والتقاضي باب: خرید و فروخت اور حق کا تقاضا کرنے میں نرمی و فراخ دلی کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، قَالَ : إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَدِمَ حَاجًّا ، فَلَمَّا قَضَى حَجَّهُ قَدِمَ إِلَى أَرْضٍ بِالطَّائِفِ ، فَإِذَا أَرْضٌ إِلَى جَنْبِ أَرْضِهِ فَطَلَبَهَا ، فَكَانَ بَيْنَهُمَا عَشَرَةُ آلَافٍ فِي الثَّمَنِ . فَلَمَّا وَضَعَ عُثْمَانُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ ، قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : رَحِمَ اللهُ عَبْدًا سَمْحَ الْبَيْعِ ، سَمْحَ الِابْتِيَاعِ ، سَمْحَ الْقَضَاءِ ، سَمْحَ التَّقَاضِي ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : نَعَمْ . فَقَالَ عُثْمَانُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : رُدَّا عَلَيَّ الرَّجُلَ ، فَأَعْطَاهُ الْعَشَرَةَ آلَافٍ وَأَخَذَ الْأَرْضَ .
هَذَا مُرْسَلٌ حَسَنٌ يُؤَيِّدُهُ الَّذِي قَبْلَهُ ، فَاعْتَضَدَ كُلٌّ مِنْهُمَا بِالْآخَرِ لِاخْتِلَافِ الْمَخْرَجَيْنِ .مطر الوراق سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ حج کی نیت سے تشریف لائے، اور جب آپ اپنے حج سے فارغ ہوئے تو طائف میں واقع اپنی ایک زمین پر تشریف لے گئے، وہاں آپ کی زمین کے پہلو میں ایک اور قطعہ زمین تھا جسے آپ خریدنا چاہتے تھے، تو قیمت کے معاملے میں فریقین کے درمیان دس ہزار کا فرق آ گیا۔ پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص سے دریافت فرمایا: ”کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: «رَحِمَ اللهُ عَبْدًا سَمْحَ الْبَيْعِ، سَمْحَ الِابْتِيَاعِ، سَمْحَ الْقَضَاءِ، سَمْحَ التَّقَاضِي» ”اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو بیچتے وقت نرم خو ہو، خریدتے وقت نرمی برتنے والا ہو، قرض کی ادائیگی میں نرم ہو اور (اپنا حق) تقاضا کرنے میں بھی وسعتِ ظرفی دکھانے والا ہو“؟“ اس شخص نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ تب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس آدمی کو میرے پاس واپس بلاؤ“، چنانچہ آپ نے اسے وہ دس ہزار (کا بقیہ مطالبہ بھی) دے دیا اور زمین حاصل کر لی۔ یہ مرسل حسن روایت ہے جس کی تائید اس سے ماقبل والی روایت کرتی ہے، اور مخرج (سند کے مصدر) مختلف ہونے کی وجہ سے یہ دونوں ایک دوسرے کو تقویت فراہم کرتی ہیں۔