المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ حَرَمِ المدينة وَفَضْلِهَا باب: مدینہ کے حرم اور اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1317
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ الزُّبَيْرِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ ، فَإِنَّهُ لَنْ يَمُوتَ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
هَذَا حَدِيثٌ مَعْرُوفٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، لَكِنْ عَنْ صُمَيْتَةَ اللَّيْثِيَّةِ بَدَلَ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ ، أَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ .ترجمہ
امام ابو یعلیٰ نے اپنی سند کے ساتھ سیدہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ وہ مدینہ منورہ میں فوت ہو، تو اسے وہیں مرنا چاہیے، کیونکہ جو شخص بھی وہاں فوت ہوگا، میں قیامت کے دن اس کا شفیع (سفارشی) یا اس کا گواہ بنوں گا“۔ یہ حدیث اس پہلو سے معروف ہے، البتہ اس میں سیدہ سبیعہ اسلمیہ کے بجائے سیدہ صمیتہ لیثیہ کا تذکرہ ہے، اور اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔