المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ حَرَمِ المدينة وَفَضْلِهَا باب: مدینہ کے حرم اور اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1316
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ - هُوَ ابْنُ حَرْبٍ - ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ - هُوَ ابْنُ زُبَالَةَ - عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فُتِحَتِ الْمَدَائِنُ بِالسَّيْفِ ، وَفُتِحَتِ الْمَدِينَةُ بِالْقُرْآنِ .
تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ وَكَانَ ضَعِيفًا جِدًّا ، وَإِنَّمَا هَذَا قَوْلُ مَالِكٍ ، فَجَعَلَهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ مَرْفُوعًا ، وَأَبْرَزَ لَهُ إِسْنَادًا .
وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، فَزَادَ فِي الْإِسْنَادِ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - .ترجمہ
ابو یعلیٰ نے عروہ کے واسطے سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمام شہر تلوار کے ذریعے فتح ہوئے، جبکہ مدینہ منورہ قرآن کے ذریعے فتح ہوا“، اس روایت کو بیان کرنے میں محمد بن الحسن منفرد ہیں اور وہ نہایت ضعیف راوی تھے، دراصل یہ امام مالک کا اپنا قول ہے جسے محمد بن الحسن نے مرفوع حدیث بنا دیا اور اس کے لیے ایک مستقل سند بھی پیش کر دی، جبکہ محمد بن الحسن کے علاوہ دیگر راویوں نے بھی اسے روایت کیا ہے اور انہوں نے سند میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام کا اضافہ کیا ہے۔