❮
❯
حدیث نمبر: 1318
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ - عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيُّ ، قَالَ : إِنَّ نَاسًا كَانُوا بِالْكُوفَةِ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا ، فِيهِ : فَأَتَوُا الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنَّ اللهَ تَعَالَى اخْتَارَ لِنَبِيِّهِ الْمَدِينَةَ ، وَهِيَ أَقَلُّ الْأَرْضِ طَعَامًا ، وَأَمْلَحُهُ مَاءً ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ هَذَا التَّمْرِ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ ، إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى .
ترجمہ

حارث نے یحییٰ بن ابی بکیر سے، انہوں نے شعبہ سے اور انہوں نے عمرو بن مرہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ ابو البختری الطائی روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ کوفہ میں مقیم تھے، پھر انہوں نے ایک واقعہ ذکر کیا جس میں ہے کہ وہ لوگ مدینہ منورہ آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے لیے مدینہ منورہ کا انتخاب فرمایا ہے، حالانکہ یہ زمین (کی پیداوار) کے اعتبار سے غلہ میں سب سے کم اور پانی کے لحاظ سے سب سے زیادہ کھاری ہے، سوائے ان کھجوروں کے (جو یہاں پیدا ہوتی ہیں)، اور «إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى» ”اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا“ تو اس میں نہ تو دجال داخل ہوگا اور نہ ہی طاعون۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1318
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»