❮
❯
حدیث نمبر: 1315
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : لَمَّا أَقْبَلْنَا مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هَذِهِ طَيْبَةُ أَسْكَنَنِيهَا رَبِّي ، تَنْفِي خَبَثَ أَهْلِهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ، فَمَنْ لَقِيَ مِنْكُمْ أَحَدًا مِنَ الْمُتَخَلِّفِينَ فَلَا يُكَلِّمَنَّهُ وَلَا يُجَالِسَنَّهُ ! .
ترجمہ

ابوبکر نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم غزوہ تبوک سے واپس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ طیبہ (مدینہ منورہ) ہے جس میں میرے رب نے مجھے سکونت عطا فرمائی ہے، یہ اپنے باسیوں کی ناپاکی اور میل کچیل کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کر دیتی ہے، لہٰذا تم میں سے جو شخص (جنگ سے) پیچھے رہ جانے والوں میں سے کسی سے ملے تو وہ اس سے ہرگز کلام نہ کرے اور نہ ہی اس کے پاس بیٹھے!“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1315
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 88، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2686، 4627»