المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ حَرَمِ المدينة وَفَضْلِهَا باب: مدینہ کے حرم اور اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1315
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : لَمَّا أَقْبَلْنَا مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هَذِهِ طَيْبَةُ أَسْكَنَنِيهَا رَبِّي ، تَنْفِي خَبَثَ أَهْلِهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ، فَمَنْ لَقِيَ مِنْكُمْ أَحَدًا مِنَ الْمُتَخَلِّفِينَ فَلَا يُكَلِّمَنَّهُ وَلَا يُجَالِسَنَّهُ ! .ترجمہ
ابوبکر نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم غزوہ تبوک سے واپس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ طیبہ (مدینہ منورہ) ہے جس میں میرے رب نے مجھے سکونت عطا فرمائی ہے، یہ اپنے باسیوں کی ناپاکی اور میل کچیل کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کر دیتی ہے، لہٰذا تم میں سے جو شخص (جنگ سے) پیچھے رہ جانے والوں میں سے کسی سے ملے تو وہ اس سے ہرگز کلام نہ کرے اور نہ ہی اس کے پاس بیٹھے!“