المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ ذِكْرِ سقاية العباس رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی سقایہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1311
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، ثَنَا يُونُسُ - هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ - ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ - هُوَ ابْنُ مُجَمِّعٍ - عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : لَمَّا أَتَى رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجَمْرَةَ سَارَ حَتَّى أَتَى الْبَيْتَ ، وَطَافَ بِهِ سَبْعًا ، ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ ، فَأَتَى بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ ، فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَالَ : انْزِعُوا عَلَى سِقَايَتِكُمْ ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ .ترجمہ
سیدنا ابورافع) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ا، انہوں نے بیان فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ (رمیِ) جمرہ سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ روانہ ہوئے یہاں تک کہ بیت اللہ تشریف لائے اور اس کا سات بار طواف کیا، پھر آپ ﷺ زمزم کے پاس تشریف لائے تو آپ ﷺ کی خدمت میں پانی کا ایک ڈول لایا گیا جس سے آپ ﷺ نے وضو فرمایا، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے بنو عبد المطلب! تم اپنے پانی پلانے کے منصب پر (پانی) نکالو، کیونکہ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ (میری پیروی کرتے ہوئے) تم پر غالب آ جائیں گے تو میں بھی ضرور (تمہارے ساتھ کنویں سے پانی) نکالتا۔“