المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ ذِكْرِ سقاية العباس رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی سقایہ کا بیان۔
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ السِّقَايَةِ ، فَذَهَبَ لِيَشْرَبَ مِنَ الْحَوْضِ الَّذِي يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ ، فَقُلْنَا لَهُ : أَلَا نُخْرِجُ لَكَ ، فَإِنَّ هَذَا خَاضَهُ النَّاسُ بِأَيْدِيهِمْ ؟ فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَا ، بَلِ اسْقُونِي مِنْ هَذَا الَّذِي قَدْ شَرِبَ النَّاسُ مِنْهُ . قَالَ : فَشَرِبَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الَّذِي يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ .
فِيهِ انْقِطَاعٌ ، وَهُوَ عِنْدَهُمْ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - نَحْوَهُ .سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سقایہ (حجاج کو پانی پلانے کے مقام) پر تشریف لائے، اور آپ ﷺ اس حوض سے پانی نوش فرمانے کے لیے تشریف لے گئے جس سے عام لوگ پانی پی رہے تھے، تو ہم نے آپ سے عرض کیا: ”کیا ہم آپ کے لیے (علیحدہ سے صاف پانی) نہ نکالیں؟ کیونکہ اس میں تو لوگوں نے اپنے ہاتھ ڈال رکھے ہیں“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، بلکہ مجھے اسی (پانی) میں سے پلاؤ جس سے لوگ پی چکے ہیں“۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ آپ ﷺ نے اسی میں سے نوش فرمایا جس سے لوگ پی رہے تھے۔ اس (روایت کی سند) میں انقطاع (ٹوٹاؤ) ہے، اور محدثین کے نزدیک سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے بھی اسی کے مانند مروی ہے۔