المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ السعي باب: صفا و مروہ کے درمیان سعی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1307
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُغِيثٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي نَوْفَلٍ ، قَالَتْ : إِنَّهَا اطَّلَعَتْ مِنْ خَوْخَةٍ لَهَا ، فَرَأَتْ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ ، فَاسْعَوْا ، وَسَمِعَتْهُ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ وَهُوَ يَسْعَى : " رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ ، إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ ! .ترجمہ
صفیہ بنت شیبہ سے اور انہوں نے بنو نوفل کی ایک خاتون سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے ایک چھوٹے سے دریچے سے جھانکا تو رسول اللہ ﷺ کو دیکھا جبکہ آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی کو فرض قرار دیا ہے، پس تم سعی کیا کرو“، نیز انہوں نے آپ ﷺ کو سعی کے دوران یہ فرماتے ہوئے سنا: «رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ» ”اے میرے رب! بخش دے اور رحم فرما، یقیناً تو ہی سب سے زیادہ صاحبِ عزت اور نہایت کرم فرمانے والا ہے“۔