المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ السعي باب: صفا و مروہ کے درمیان سعی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1305
حَدَّثَنَا بِشْرٌ - هُوَ ابْنُ السَّرِيِّ - حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، قَالَ : إِنَّهُ طَافَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَانْحَدَرَ وَسَعَى ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، ثُمَّ وَقَفَ حَتَّى أَدْرَكَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ :
حَبَّذَا مَكَّةَ مِنْ وَادِي بِهَا أَهْلِي وَعُوَّادِي بِهَا أَمْشِي بِلَا هَادِي
بِهَا تَرْسُخُ أَوْتَادِي فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : وَحَبَّذَا هِيَ .ترجمہ
سیدہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ا، انہوں نے کہا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، پس ابن ام مکتوم (نیچے کی جانب) اترے اور دوڑے، پھر وہ رک گئے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس پہنچ گئے، تو انہوں نے (یہ اشعار) کہے: ”مکہ کیا ہی بھلی وادی ہے، جہاں میرے اہل و عیال اور میرے تیمار دار رہتے ہیں، وہاں میں کسی رہنما کے بغیر ہی چلتا پھرتا ہوں اور وہیں میری میخیں (جڑیں) مضبوطی سے پیوست ہیں“، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اور وہ (مکہ) ہے بھی بہت ہی پیاری“۔