المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ السعي باب: صفا و مروہ کے درمیان سعی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1303
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْتَهَى إِلَى الصَّفَا ، فَبَدَأَ بِهِ نَهَارًا ، فَوَقَفَ عِنْدَهُ ، فَلَمْ يَزَلْ يَمْشِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَطْنِ الْوَادِي ، فَرَمَلَ وَرَمَلَ النَّاسُ مَعَهُ ، حَتَّى جَاوَزَ الْوَادِيَ ، ثُمَّ مَشَى .ترجمہ
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ صفا پہاڑی پر پہنچے اور دن کے وقت وہیں سے (سعی کا) آغاز فرمایا، پس آپ ﷺ وہاں ٹھہرے، پھر آپ ﷺ برابر چلتے رہے یہاں تک کہ جب وادی کے درمیانی نشیبی حصے (بطنِ وادی) میں پہنچے تو آپ ﷺ نے تیز قدموں سے (رمل کرتے ہوئے) سفر کیا اور لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ تیز رفتاری اختیار کی، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ وادی سے آگے نکل گئے تو پھر آپ ﷺ (معمول کے مطابق) پیدل چلنے لگے۔“