❮
❯
حدیث نمبر: 1302
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا ، فَقَالَ : لَقَدْ صَنَعْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَصْنَعْهُ ، دَخَلْتُ الْبَيْتَ ، فَأَخْشَى أَنْ يَجِيءَ رَجُلٌ مِنْ أُفُقٍ مِنَ الْآفَاقِ فَلَا يَسْتَطِيعُ دُخُولَهُ ، فَيَرْجِعُ وَفِي نَفْسِهِ مِنْهُ شَيْءٌ .
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ایک روز نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ”آج میں نے ایک ایسا کام کیا ہے جس کے متعلق میری یہ خواہش ہے کہ کاش میں نے وہ نہ کیا ہوتا، میں بیت اللہ کے اندر داخل ہوا ہوں، چنانچہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں آفاقِ عالم میں سے کسی دور دراز گوشے سے کوئی شخص آئے اور وہ اس میں داخل نہ ہو سکے، تو وہ اس حال میں واپس لوٹے کہ اس کے دل میں اس (محرومی) کی وجہ سے کوئی تنگی یا ملال ہو“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1302
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن لغيره. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 24671، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4883»