المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ البيان بأن دُخُولِ البيت ليس بواجب باب: بیت اللہ میں داخل ہونا واجب نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1302
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا ، فَقَالَ : لَقَدْ صَنَعْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَصْنَعْهُ ، دَخَلْتُ الْبَيْتَ ، فَأَخْشَى أَنْ يَجِيءَ رَجُلٌ مِنْ أُفُقٍ مِنَ الْآفَاقِ فَلَا يَسْتَطِيعُ دُخُولَهُ ، فَيَرْجِعُ وَفِي نَفْسِهِ مِنْهُ شَيْءٌ .ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ایک روز نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ”آج میں نے ایک ایسا کام کیا ہے جس کے متعلق میری یہ خواہش ہے کہ کاش میں نے وہ نہ کیا ہوتا، میں بیت اللہ کے اندر داخل ہوا ہوں، چنانچہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں آفاقِ عالم میں سے کسی دور دراز گوشے سے کوئی شخص آئے اور وہ اس میں داخل نہ ہو سکے، تو وہ اس حال میں واپس لوٹے کہ اس کے دل میں اس (محرومی) کی وجہ سے کوئی تنگی یا ملال ہو“۔