المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الصَّلَاةِ فِي البيت باب: بیت اللہ کے اندر نماز پڑھنے کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : إِنَّ مُعَاوِيَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَدِمَ مَكَّةَ ، فَدَخَلَ الْكَعْبَةَ ، فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ : بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ ، فَجَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَرَجَّ الْبَابَ رَجًّا شَدِيدًا ، فَفُتِحَ لَهُ ، فَقَالَ : يَا مُعَاوِيَةُ ، أَمَا وَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنِّي كُنْتُ أَعْلَمُ مِثْلَ الَّذِي عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ ، وَلَكِنَّكَ حَسَدْتَنِي أَنْ تَبْعَثَ إِلَيَّ .عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ تشریف لائے اور کعبہ میں داخل ہوئے، پھر انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا اور دریافت کیا: ”رسول اللہ ﷺ نے کہاں نماز پڑھی تھی؟“ انہوں نے جواب دیا: ”دو ستونوں کے درمیان۔“ اسی دوران سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما تشریف لائے اور انہوں نے دروازے کو بڑی قوت سے جھنجھوڑا، چنانچہ ان کے لیے دروازہ کھول دیا گیا، تو انہوں نے کہا: ”اے معاویہ! اللہ کی قسم! آپ کو بخوبی علم تھا کہ میں بھی وہی جانتا تھا جو ابن عمر جانتے تھے، لیکن آپ نے مجھ سے حسد کیا کہ آپ میری طرف کسی کو پوچھنے کے لیے بھیجتے۔“