المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إِزَالَةِ النَّجَاسَاتِ باب: نجاستوں کو زائل کرنے کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، ثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَوْ أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ : حَدَّثَتْنَا امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِي قَالَتْ : بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا عَلَى ظَهْرِهِ يُلَاعِبُ صَبِيًّا عَلَى صَدْرِهِ إِذْ بَالَ ، فَقَامَتْ لِتَأْخُذَهُ وَتَضْرِبَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعِيهِ ، إِيتُونِي بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ " ، فَنَضَحَ الْمَاءَ عَلَى الْبَوْلِ حَتَّى تَفَايَضَ الْمَاءُ عَلَى الْبَوْلِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَكَذَا يُصْنَعُ بِالْبَوْلِ ، يُنْضَحُ مِنَ الذَّكَرِ ، وَيُغْسَلُ مِنَ الْأُنْثَى " .سیدنا حسن بن علی یا سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اپنے گھر کی ایک خاتون سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی پشت کے بل لیٹے ہوئے ایک ننھے بچے کو اپنے سینہ مبارک پر بٹھائے اس کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ اسی دوران اس بچے نے پیشاب کر دیا، وہ خاتون اسے پکڑنے اور (اس حرکت پر) مارنے کے لیے لپکیں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسے رہنے دو، اور میرے پاس پانی کا ایک کوزہ لے آؤ“، چنانچہ آپ ﷺ نے اس جگہ پر پانی چھڑکا یہاں تک کہ پانی پیشاب کے اوپر سے بہہ نکلا، پھر آپ ﷺ نے (حکم کی وضاحت کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”پیشاب کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا جاتا ہے، لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔“