❮
❯
حدیث نمبر: 12
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حُدِّثْتُ عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ ، عَنْ لَيْثٍ هُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ حُدَيْرِ مَوْلًى لِبَنِي عَبْسٍ ، عَنْ مَوْلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يُقَالُ لَهُ : أَبُو الْقَاسِمِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي إِذْ أَقْبَلَ حُسَيْنٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ غُلَامٌ حَتَّى جَلَسَ عَلَى بَطْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ وَضَعَ ذَكَرَهُ فِي سُرَّتِهِ ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ : " إِيتِنِي بِمَاءٍ " ، فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ ، وَيُصَبُّ عَلَيْهِ مِنَ الْغُلَامِ " .
وَهُوَ صَحِيحٌ ، وَأَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَالنَّسَائِيُّ ، وَالْحَاكِمُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي السَّمْحِ آخِرَهُ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ ، وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ .
12 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ حُدَيْرِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ مَوْلًى لِزَيْنَبَ أَوْ عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ ، عَنْ زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي ، وَحُسَيْنٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدِي حِينَ دَرَجَ فَغَفَلْتُ عَنْهُ ، فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَلَسَ عَلَى بَطْنِهِ فَبَالَ ، فَانْطَلَقْتُ لِآخُذَهُ ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " دَعِيهِ " فَتَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَغَ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَقَالَ : " إِنَّهُ لَيُصَبُّ مِنَ الْغُلَامِ ، وَيُغْسَلُ مِنَ الْجَارِيَةِ ، فَصُبُّوا صَبًّا " .
ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي ، فَلَمَّا قَامَ احْتَضَنَهُ إِلَيْهِ ، فَإِذَا رَكَعَ أَوْ جَلَسَ وَضَعَهُ ، ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو فَبَكَى ، ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ . فَقُلْتُ حِينَ قَضَى الصَّلَاةَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي رَأَيْتُكَ الْيَوْمَ صَنَعْتَ شَيْئًا مَا رَأَيْتُكَ صَنَعْتَهُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنِي هَذَا تَقْتُلُهُ أُمَّتِي ، فَقُلْتُ : أَرِنِي تُرْبَتَهُ ، فَأَرَانِي تُرْبَتَهُ حَمْرَاءَ " .
ترجمہ

سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں تشریف فرما تھے کہ اسی اثنا میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، جو اس وقت ابھی کم سن بچے تھے، تشریف لائے اور رسول اللہ ﷺ کے شکم مبارک پر بیٹھ گئے، پھر انہوں نے آپ ﷺ کے پیٹ پر پیشاب کر دیا؛ میں انہیں پکڑنے کے لیے آگے بڑھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس پانی لاؤ۔“ میں پانی لے کر آئی تو آپ ﷺ نے اسے اس جگہ پر بہا دیا، پھر آپ ﷺ نے قاعدہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے جبکہ لڑکے کے پیشاب پر صرف پانی چھڑکا جاتا ہے۔“ (یہ روایت صحیح ہے، اسے امام ابوداؤد، نسائی اور حاکم نے ابوسمح کی روایت سے معمولی لفظی فرق کے ساتھ نقل کیا ہے، مگر مفہوم ایک ہی ہے)۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ہی کی ایک اور روایت میں مروی ہے کہ جب حسین رضی اللہ عنہ نے گھٹنوں کے بل چلنا شروع کیا تھا، تو ایک بار میری غفلت کی وجہ سے وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلے گئے اور آپ ﷺ کے شکمِ اطہر پر بیٹھ کر پیشاب کر دیا، میں انہیں پکڑنے کے لیے لپکی تو رسول اللہ ﷺ بیدار ہو گئے اور فرمایا: ”اسے ابھی رہنے دو۔“ چنانچہ میں نے انہیں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہو گئے۔ پھر آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور فرمایا: ”یقیناً لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے، لہٰذا اس پر اچھی طرح پانی بہا دو۔“ پھر آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور نماز ادا کرنے لگے، جب آپ ﷺ قیام فرماتے تو انہیں گود میں اٹھا لیتے اور جب رکوع یا قعدہ فرماتے تو انہیں نیچے بٹھا دیتے؛ پھر آپ ﷺ بیٹھ کر دعا مانگنے لگے تو اس دوران گریہ فرمایا اور اپنا ہاتھ دراز کیا۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آج میں نے آپ کو ایسا عمل کرتے دیکھا ہے جو اس سے قبل کبھی کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور انہوں نے مجھے یہ خبر دی کہ میرے اس بیٹے کو میری امت قتل کر دے گی، میں نے عرض کی: مجھے اس کی جائے شہادت کی مٹی دکھائیں، چنانچہ انہوں نے مجھے وہاں کی سرخ مٹی دکھائی۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 12
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن
قال ابن حجر: وَهُوَ صَحِيحٌ ، وَأَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَالنَّسَائِيُّ ، وَالْحَاكِمُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي السَّمْحِ آخِرَهُ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ ، وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ .
قال التویجری: فَالْحَدِيثُ إِذًا حَسَنُ الإِسْنَادِ »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 1572، 15114، 15115، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 498/2»