المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إِزَالَةِ النَّجَاسَاتِ باب: نجاستوں کو زائل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : ثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَبُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ الْمَاءُ ، وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ " .
14 \ 2 - حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِهِ . وَزَادَ : مَا لَمْ يَطْعَمْ " وَزَادَ : طَعِمَتْ أَوْ لَمْ تَطْعَمْ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ .ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”شیر خوار لڑکے کے پیشاب پر (صرف) پانی بہا دیا جائے، جبکہ لڑکی کے پیشاب کو باقاعدہ دھویا جائے۔“ اسی حدیث کی ایک دوسری سند میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ لڑکے کے پیشاب پر پانی بہانے کی یہ سہولت اس وقت تک ہے «مَا لَمْ يَطْعَمْ» یعنی ”جب تک اس نے باقاعدہ کھانا پینا شروع نہ کیا ہو“، اور لڑکی کے حوالے سے یہ صراحت ہے کہ اس کا پیشاب بہرصورت دھویا جائے گا «طَعِمَتْ أَوْ لَمْ تَطْعَمْ» یعنی ”خواہ اس نے کھانا شروع کیا ہو یا نہ کیا ہو“، تاہم یہ آخری ٹکڑا (لڑکی سے متعلق تفصیل) مرفوع حدیث کے طور پر مروی نہیں ہے۔