المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فضائل الكعبة والمسجد الحرام باب: کعبہ اور مسجدِ حرام کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1293
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ثَنَا أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - هَمَّ أَنْ يَأْخُذَ كَنْزَ الْكَعْبَةِ وَيُنْفِقَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى ، فَقَالَ لَهُ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : سَبَقَكَ صَاحِبَاكَ فَلَمْ يَفْعَلَا ، فَلَوْ كَانَ خَيْرًا لَفَعَلَاهُ ، فَتَرَكَهُ .
هَذَا مُنْقَطِعٌ .ترجمہ
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ارادہ فرمایا کہ کعبۃ اللہ کے خزانے کو نکال کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیں۔ سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے عرض کیا: ”آپ کے دونوں ساتھی، رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، آپ سے پہلے گزر چکے ہیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا؛ اگر اس میں خیر ہوتی تو وہ ضرور یہ کام کرتے۔“ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔
یہ روایت منقطع ہے۔