المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مشروعية ملاقاة الْحَاجِّ والتبشير بسلامته باب: حاجی سے ملاقات اور اس کی سلامتی کی خوش خبری دینے کا بیان۔
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - صَلَّى بِالْمَدِينَةِ بِالنَّاسِ مَسَاءً ، يَوْمَ النَّفْرِ الْآخِرِ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَا إِنَّ مُحَمَّدًا أَبَا الْقَاسِمِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ سَبَقَ بِالْخَيْرَاتِ ، وَأَنَّ ذَكْوَانَ مَوْلَى مَرْوَانَ قَدْ سَبَقَ الْحَاجَّ ، وَأَخْبَرَ عَنِ النَّاسِ بِسَلَامَةٍ .
قَالَ سُفْيَانُ : وَفِي ذَلِكَ يَقُولُ ذَكْوَانُ :
وَأَنَا الَّذِي كَلَّفْتُهَا سَيْرَ لَيْلَةٍ مِنْ أَهْلِ مِنًى نَصًّا إِلَى أَهْلِ يَثْرِبِ
هَذَا الْإِسْنَادُ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحِ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ .وہب بن کیسان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں یومِ نفرِ آخر کی شام لوگوں کو نماز پڑھاتے دیکھا۔ نماز کے بعد انہوں نے فرمایا: ”خبردار! محمد ابوالقاسم ﷺ نیکیوں میں سبقت لے گئے، اور مروان کے مولیٰ ذکوان بھی حاجیوں سے پہلے پہنچ گئے اور لوگوں کی سلامتی کی خبر دی۔“
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسی موقع پر ذکوان نے یہ شعر کہا: ”اور میں وہ ہوں جسے اہلِ منیٰ سے اہلِ یثرب تک ایک ہی رات میں تیز رفتاری سے سفر کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تک اس روایت کی سند صحیح کی شرط پر ہے، البتہ یہ روایت موقوف ہے۔