المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مشروعية ملاقاة الْحَاجِّ والتبشير بسلامته باب: حاجی سے ملاقات اور اس کی سلامتی کی خوش خبری دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1291
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يُغْفَرُ لِلْحَاجِّ وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُ الْحَاجُّ بَقِيَّةَ ذِي الْحِجَّةِ ، وَالْمُحَرَّمِ ، وَصَفَرَ ، وَعَشْرًا مِنْ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ .ترجمہ
مہاجر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حاجی کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اور اس شخص کی بھی جس کے لیے حاجی دعائے مغفرت کرے؛ یہ فضیلت ذوالحجہ کے باقی ایام، محرم، صفر اور ربیع الاول کے ابتدائی دس دنوں تک رہتی ہے۔“
اس روایت کی سند میں لیث بن ابی سلیم ہیں جنہیں جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے، لہٰذا اس کی سند ضعیف ہے۔