المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ جزاء الصيد وتحريمه عَلَى الْمُحْرِمِ باب: شکار کی جزا اور محرم پر اس کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1280
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْفُضَيْلِ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ : صَحِبْتُ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، وَكَانَ يَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدِ الْبَرِّ ، فَقُلْتُ لَهُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : صَادَهُ حَلَالٌ ، وَقَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا .ترجمہ
سیدنا عبدالرحمن بن ذُویب الاسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک کے سفر میں سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی رفاقت اختیار کی جبکہ وہ حالتِ احرام میں تھے، میں نے دیکھا کہ وہ خشکی کے شکار کا گوشت تناول فرما رہے ہیں، چنانچہ جب میں نے ان سے اس بابت دریافت کیا تو انہوں نے وضاحت فرمائی کہ اسے ایک ایسے شخص نے شکار کیا ہے جو احرام کی پابندیوں سے آزاد (حلال) تھا، اور میں نے اس مسئلے کے متعلق خود رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تھا تو آپ ﷺ نے اس عمل میں ”کسی قسم کا کوئی حرج اور مضائقہ محسوس نہیں فرمایا“۔