المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ جزاء الصيد وتحريمه عَلَى الْمُحْرِمِ باب: شکار کی جزا اور محرم پر اس کی حرمت کا بیان۔
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَضَى فِي الْيَرْبُوعِ جَفْرَةً ، وَفِي الضَّبُعِ كَبْشًا ، وَفِي الظَّبْيِ شَاةً ، وَفِي الْأَرْنَبِ عَنَاقًا .
1281 \ 2 - حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ثَنَا أَيُّوبُ ، ثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ بِهِ .
1281 \ 3 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهِ ، مُقْتَصِرًا عَلَى الْيَرْبُوعِ .
1282 - أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ ، عَنِ الْأَجْلَحِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، فَذَكَرَهُ ، لَكِنْ زَادَ : وَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے [حالتِ احرام میں شکار کے کفارے کے متعلق] یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ: ”یربوع (گلہری نما چوہے) کے بدلے میں جفرہ (چار ماہ کی پٹھیا)، لگڑ بگڑ کے شکار پر ایک مینڈھا، ہرن کے بدلے میں ایک بکری اور خرگوش کے بدلے میں عناق (بکری کا مادہ بچہ) بطورِ جزا لازم ہے۔“
اس روایت کو یزید بن زریع نے بھی ابو زبیر کے واسطے سے نقل کیا ہے، جبکہ احمد بن منیع کی روایت میں صرف یربوع کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے؛ علاوہ ازیں امام ابو یعلیٰ کی سند میں یہ علمی اضافہ بھی موجود ہے کہ راوی کہتے ہیں: میرا غالب گمان یہی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو رسول اللہ ﷺ سے مرفوعاً (یعنی آپ ﷺ کا فرمان سمجھ کر ہی) بیان فرمایا تھا۔