المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ جزاء الصيد وتحريمه عَلَى الْمُحْرِمِ باب: شکار کی جزا اور محرم پر اس کی حرمت کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصِفَاحِ الرَّوْحَاءِ ، فَإِذَا نَحْنُ بِحِمَارٍ عَقِيرٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ هَذَا الْحِمَارَ يُوشِكُ صَاحِبُهُ أَنْ يَأْتِيَ . فَمَا لَبِثَ أَنْ جَاءَ صَاحِبُهُ ، فَقَالَ : خُذُوهُ . فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَنْ يُقَسِّمَهُ فِي الرِّفَاقِ . ثُمَّ خَرَجْنَا ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْأُثَايَةِ بِالْعَرْجِ ، إِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِيهِ سَهْمٌ غَائِرٌ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَنْ يَقِفَ عَلَيْهِ فَيَمْنَعَهُ مِنَ النَّاسِ . قَالَ : وَصَاحِبُ الْحِمَارِ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ .
قُلْتُ : ظَاهِرُ هَذَا الْإِسْنَادِ الصِّحَّةُ ، لَكِنَّهُ مَعْلُولٌ . بَيَّنَ ذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ فِي كِتَابِ الْعِلَلِ ، وَأَنَّهُ قَالَ لِابْنِ عُيَيْنَةَ : إِنَّ النَّاسَ يُخَالِفُونَكَ ، لَا يَقُولُونَ : عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ! فَقَالَ : الْحَدِيثَ قَدْ قَصَصْتُ لَكَ ، وَكُنْتُ أَظُنُّهُ عَنْ أَبِيهِ . قَالَ عَلِيٌّ : الصَّوَابُ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنِ الْبَهْزِيِّ .سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ "صفاح الروحاء" کے مقام پر تھے کہ ہمیں ایک زخمی گورخر ملا، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً اس گورخر کا مالک عنقریب آنے والا ہے“، چنانچہ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اس کا مالک آپہنچا اور عرض کیا کہ اسے (بطورِ ہدیہ) قبول فرمائیں، تب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اسے تمام رفقائے سفر میں تقسیم کر دیں۔ پھر ہم وہاں سے آگے بڑھے یہاں تک کہ جب ہم "عَرج" کے مقام "اثایہ" پہنچے تو وہاں ایک ہرن کنڈلی مارے لیٹا ہوا تھا جس کے جسم میں ایک تیر پیوست تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اس کے پاس ٹھہر جائیں تاکہ اسے لوگوں (کی چھیڑ چھاڑ) سے محفوظ رکھیں، اور اس گورخر کا مالک قبیلہ بنو بہز کا ایک شخص تھا۔
میں کہتا ہوں کہ بظاہر اس سند کا ظاہر صحیح ہے لیکن یہ "معلول" ہے، جس کی وضاحت علی بن المدینی نے "کتاب العلل" میں کی ہے کہ انہوں نے ابن عیینہ سے کہا: دیگر محدثین آپ کی مخالفت کرتے ہیں، وہ اسے "عیسیٰ بن طلحہ عن ابیہ" کی سند سے روایت نہیں کرتے! تو ابن عیینہ نے کہا: میں نے حدیث تو آپ کو سنا دی، میرا گمان یہی تھا کہ یہ ان کے والد سے مروی ہے، جبکہ علی بن المدینی کے نزدیک درست بات یہ ہے کہ یہ "عیسیٰ بن طلحہ از بہزی" مروی ہے۔