المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ جزاء الصيد وتحريمه عَلَى الْمُحْرِمِ باب: شکار کی جزا اور محرم پر اس کی حرمت کا بیان۔
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ ، يَقُولُ : أَقْبَلْتُ مَعَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَكَعْبٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - مُحْرِمِينَ بِعُمْرَةٍ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، وَأَمِيرُنَا مُعَاذٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَأَمْرُنَا إِلَيْهِ ، وَهُوَ يَؤُمُّنَا . فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ تَبَرَّزَ مُعَاذٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - لِحَاجَتِهِ ، وَخَالَفَهُ رَجُلٌ بِحِمَارِ وَحْشٍ قَدْ عَقَرَهُ ، فَأَخَذَهُ كَعْبٌ ، فَأَهْدَاهُ إِلَى الرُّفْقَةِ . قَالَ : فَلَمْ يَرْجِعْ مُعَاذٌ إِلَّا وَقُدُورُ الْقَوْمِ تَغْلِي فِيهَا مِنْهُ . فَسَأَلَ ، فَأُخْبِرَ ، فَقَالَ : لَا يُطِيعُنِي أَحَدٌ إِلَّا كَفَأَ قِدْرَهُ ! . قَالَ : فَكَفَأَ كَعْبٌ وَالْقَوْمُ قُدُورَهُمْ . فَلَمَّا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ ، وَكَعْبٌ يُصَلِّي عَلَى نَارٍ ، إِذْ مَرَّتْ بِهِ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ ، فَأَخَذَ جَرَادَتَيْنِ فَقَتَلَهُمَا وَنَسِيَ إِحْرَامَهُ ، ثُمَّ ذَكَرَ إِحْرَامَهُ فَرَمَى بِهِمَا . فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ دَخَلَ الْقَوْمُ عَلَى عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَدَخَلْتُ مَعَهُمْ ، فَقَالَ كَعْبٌ : كَيْفَ تَرَى يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - فَقَصَّ عَلَيْهِ قِصَّةَ الْجَرَادَتَيْنِ - ؟ قَالَ : وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ ، يَا كَعْبُ . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : إِنَّ حِمْيَرَ تُحِبُّ الْجَرَادَ ، وَمَاذَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ ؟ قَالَ : دِرْهَمَيْنِ . قَالَ : دِرْهَمَانِ خَيْرٌ مِنْ مِائَةِ جَرَادَةٍ ، اجْعَلْ مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ .عبداللہ بن ابی عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہما کے ہمراہ بیت المقدس سے عمرے کا احرام باندھ کر نکلا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ہمارے امیر تھے، ہم انہی کے زیرِ فرمان تھے اور وہی ہماری امامت کر رہے تھے، دورانِ سفر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ رفعِ حاجت کے لیے تشریف لے گئے، اسی اثنا میں ایک شخص ملا جس نے ایک جنگلی گدھا شکار کر رکھا تھا، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے وہ گوشت لے کر قافلے والوں کو تحفے میں دے دیا، راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی واپسی تک لوگوں کی ہانڈیاں اس گوشت سے جوش مار رہی تھیں، انہوں نے پوچھا تو انہیں صورتِ حال بتائی گئی، جس پر انہوں نے حکم دیا: ”جو میری اطاعت کرتا ہے وہ اپنی ہانڈی الٹ دے!“ چنانچہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ اور دیگر لوگوں نے اپنی ہانڈیاں الٹ دیں، پھر سفر کے ایک اور مرحلے پر جب سیدنا کعب رضی اللہ عنہ آگ کے پاس موجود تھے کہ وہاں سے ٹڈیوں کا غول گزرا، انہوں نے اپنا احرام بھول کر دو ٹڈیاں پکڑ کر مار دیں، پھر جب یاد آیا تو انہیں پھینک دیا، مدینہ منورہ پہنچنے پر جب یہ لوگ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ تھا، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے ٹڈیوں والا واقعہ سنا کر پوچھا کہ اے امیر المؤمنین! آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اے کعب! اس میں کوئی حرج نہیں“، انہوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”قبیلہ حمیر کے لوگ ٹڈیاں بہت پسند کرتے ہیں، تم نے اپنے جی میں اس کا کیا کفارہ سوچا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: دو درہم، آپ نے فرمایا: ”دو درہم سو ٹڈیوں سے بھی بہتر ہیں، وہی دے دو جو تم نے دل میں طے کر رکھا ہے“۔
شارحین کے مطابق سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا ہانڈیاں الٹوا دینا تقویٰ اور احتیاط پر مبنی تھا تاکہ احرام کی حالت میں شکار کے گوشت سے متعلق کسی بھی قسم کا شبہہ باقی نہ رہے، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ بھول چوک اور معمولی مقدار کی بنیاد پر تلافی کے حوالے سے تھا۔