المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْخُطْبَةِ فِي يَوْمَ النحر وفي ثانيه باب: یوم النحر اور اس کے اگلے دن خطبہ دینے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ ، ثَنَا أَبِي ، ثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُصَيْنٍ الْغَنَوِيُّ ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي السَّرَّى بِنْتُ نَبْهَانَ بْنِ عَمْرٍو - وَكَانَتْ رَبَّةَ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ - قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، يَقُولُ : أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ قَالُوا : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : هَذَا أَوْسَطُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ . قَالَ : تَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ قَالُوا : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ ، قَالَ : إِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا . أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ ، بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، حَتَّى تَلْقَوُا اللهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيَسْأَلَكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ . أَلَا فَلْيُبَلِّغْ أَدْنَاكُمْ أَقْصَاكُمْ ؟ قَالَ : ثُمَّ أَتْبَعَهَا : اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ فَتُوُفِّيَ حِينَ بَلَغَ الْمَدِينَةَ .
1275 \ 2 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ وَيَعْقُوبُ ، فَرَّقَهُمَا ، قَالَا : ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، بِهِ .
أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ .سیدہ سرّی بنت نبہان بن عمرو رضی اللہ عنہا سے روایت ہے (جو زمانہ جاہلیت میں ایک معزز گھرانے کی نگران و سربراہ تھیں)، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟“ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایامِ تشریق کا درمیانی دن ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا شہر ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مشعرِ حرام (حرمت والا مقام) ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نہیں جانتا، شاید میں اس سال کے بعد تم سے دوبارہ نہ مل سکوں۔ آگاہ رہو! تمہارے خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام و محترم ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے، یہاں تک کہ تم اللہ عزوجل سے جا ملو اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال فرمائے۔ خبردار! تم میں سے جو موجود ہے وہ اسے غائب (دور والوں) تک پہنچا دے۔“ راویہ کہتی ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے اس کے بعد یہ عرض کیا: « اَللّٰهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ اَللّٰهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ » ”اے اللہ! کیا میں نے (تیرا پیغام) پہنچا دیا ہے؟ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟“ پھر مدینہ منورہ واپسی کے کچھ عرصہ بعد آپ ﷺ کا وصال ہو گیا۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ کے علاوہ ابراہیم بن محمد بن عرعرہ اور یعقوب نے بھی ابو عاصم کے واسطے سے روایت کیا ہے، جبکہ امام ابو داؤد نے اسے اسی سند کے ساتھ اپنی سنن میں مختصراً روایت کیا ہے۔