المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التلبية ومتى تنقطع وهل يُقَالُ فِي الأماكن المقدسة باب: تلبیہ، اسے ختم کرنے کے وقت اور مقدس مقامات میں کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1274
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الْحَسَنِ وَقَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ ! .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی زبانِ مبارک سے یہ کلمات ادا فرمایا کرتے تھے: ”«لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں تیرے حضور حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، یقیناً تمام تر تعریفیں، تمام نعمتیں اور ساری بادشاہی تیرے ہی لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں!“