المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التلبية ومتى تنقطع وهل يُقَالُ فِي الأماكن المقدسة باب: تلبیہ، اسے ختم کرنے کے وقت اور مقدس مقامات میں کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1273
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أَفْضَلُ الْحَجِّ : الْعَجُّ وَالثَّجُّ ، فَالْعَجُّ : الْعَجِيجُ ، وَالثَّجُّ : النَّحْرُ .
1273 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَأَمَّا الْعَجُّ فَالتَّلْبِيَةُ ، وَأَمَّا الثَّجُّ فَنَحْرُ الْإِبِلِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”افضل ترین حج 'العج' اور 'الثج' ہے؛ پس 'العج' سے مراد (ذکر و تلبیہ کے ساتھ) آواز بلند کرنا ہے اور 'الثج' سے مراد (قربانی کا) خون بہانا ہے۔“
امام ابو یعلیٰ کی روایت میں اس کی مزید وضاحت یوں منقول ہے کہ 'العج' سے مراد تلبیہ پکارنا ہے، جبکہ 'الثج' سے مراد اللہ کی راہ میں اونٹوں کی قربانی کرنا ہے۔