المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التلبية ومتى تنقطع وهل يُقَالُ فِي الأماكن المقدسة باب: تلبیہ، اسے ختم کرنے کے وقت اور مقدس مقامات میں کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1271
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سِيرِينَ : أَنَّهُ حَجَّ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَكَانَ يَقُولُ فِي تَلْبِيَتِهِ : لَبَّيْكَ حَجًّا حَقًّا ، تَعَبُّدًا وَرِقًّا .ترجمہ
یحییٰ بن سیرین سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حج ادا کیا تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ اپنے تلبیہ میں یہ کلمات ادا کرتے تھے: ”«لَبَّيْكَ حَجًّا حَقًّا ، تَعَبُّدًا وَرِقًّا» میں حاضر ہوں سچے حج کے لیے، جو تیری خالص بندگی اور غلامی کے اعتراف کے طور پر ہے“۔