المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التلبية ومتى تنقطع وهل يُقَالُ فِي الأماكن المقدسة باب: تلبیہ، اسے ختم کرنے کے وقت اور مقدس مقامات میں کہنے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ - هُوَ الْجُعْفِيُّ - عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ . وَمَا سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ حَجًّا وَلَا عُمْرَةً .
قَالَ مُجَاهِدٌ : وَقَالَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ .
قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ بِالزِّيَادَةِ ، دُونَ قَوْلِهَا : يَذْكُرُ حَجًّا وَلَا عُمْرَةً .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ سے (تلبیہ پکارتے ہوئے) ان کلمات کے سوا کچھ نہیں سنا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ» (میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، یقیناً تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے ہی لیے ہیں)؛ اور میں نے آپ ﷺ کو (تلبیہ میں) حج یا عمرہ کا تذکرہ کرتے ہوئے نہیں سنا۔“
امام مجاہد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کلمات میں اس جملے کا اضافہ فرمایا کرتے تھے: ”اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“
میں (مؤلف) کہتا ہوں کہ یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کے واسطے سے کتبِ صحیح میں اس زیادتی (یعنی لفظِ 'الملک') کے ساتھ مروی ہے، البتہ وہاں ان کا یہ قول موجود نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے حج یا عمرہ کا ذکر نہیں فرمایا تھا۔