المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التلبية ومتى تنقطع وهل يُقَالُ فِي الأماكن المقدسة باب: تلبیہ، اسے ختم کرنے کے وقت اور مقدس مقامات میں کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1269
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَعْلَى ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ عَبَّادٍ ، قَالَ : حُدِّثْتُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - لَمَّا دَخَلَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ قَالَ : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ! .ترجمہ
عباد سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ: مجھ سے حدیث بیان کی گئی کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ جب بیت المقدس میں داخل ہوئے تو انہوں نے (یہ دعا/تلبیہ) فرمایا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ» ”میں تیرے دربار میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں“۔