المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ رمي الجمار باب: جمرات کو کنکریاں مارنے (رمیِ جمار) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1258
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ مَوْلَى آل عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، سَمِعَهُ يُخْبِرُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا حَبَّةَ يُفْتِي النَّاسَ : أَنَّهُ لَا بَأْسَ لِمَا رَمَى بِهِ الرَّجُلُ فِي الْجِمَارِ مِنْ حَصًى وَغَيْرِهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ : فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ : صَدَقَ . وَكَانَ أَبُو حَبَّةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بَدْرِيًّا .ترجمہ
عبداللہ بن عمرو بن عثمان سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوحبہ رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو یہ شرعی مسئلہ بتاتے ہوئے سنا کہ ”رمی جمار کے لیے اگر آدمی کنکریاں یا اس جیسی دیگر چیزیں مارے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے“، عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ پھر اس بات کا ذکر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا گیا تو انہوں نے (اس کی تائید میں) فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا ہے“
سیدنا ابوحبہ رضی اللہ عنہ ان جلیل القدر صحابہ میں شامل تھے جنہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل کیا تھا۔