المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ رمي الجمار باب: جمرات کو کنکریاں مارنے (رمیِ جمار) کا بیان۔
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ مُعَاذٌ ، أَوِ ابْنُ مُعَاذٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَّمَ النَّاسَ مَنَاسِكَهُمْ ، قَالَ : فَفَتَحَ اللهُ تَعَالَى أَسْمَاعَنَا ، فَإِنَّا لَنَسْمَعُ وَنَحْنُ فِي رِحَالِنَا ، فَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنَا : إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ .
أَخْرَجَ أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .سیدنا معاذ یا ابن معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو مناسکِ حج کی تعلیم دی، وہ بیان کرتے ہیں کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ہماری سماعتوں کو اس قدر وسعت و قوت عطا فرمائی کہ ہم اپنے پڑاؤ اور کجاووں میں موجود ہونے کے باوجود آپ ﷺ کا خطبہ سن رہے تھے، پس آپ ﷺ نے ہمیں جو تعلیمات دیں ان میں یہ بھی شامل تھا کہ ”جب تم جمرات کی رمی کرو تو اس کے لیے ویسی ہی کنکریاں استعمال کرو جیسی انگلیوں کی چٹکی سے پھینکنے والی چھوٹی کنکریاں «حَصَى الْخَذْفِ» ہوتی ہیں۔“
امام ابوداؤد نے اس حدیث کا کچھ حصہ عبدالرحمن بن معاذ التیمی کی ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے منقول روایت کے ذریعے بھی نقل کیا ہے۔