المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ رمي الجمار باب: جمرات کو کنکریاں مارنے (رمیِ جمار) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1257
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : حَصَى الْجِمَارِ مَا يُقْبَلُ مِنْهُ رُفِعَ ، وَمَا رُدَّ تُرِكَ ، وَلَوْلَا ذَلِكَ كَانَ أَطْوَلَ مِنْ شِبْرٍ .ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے (جمرات کی کنکریوں کے متعلق) فرمایا: ”جمرات کی ان کنکریوں میں سے جو (بارگاہِ الٰہی میں) قبول کر لی جاتی ہیں انہیں اٹھا لیا جاتا ہے، اور جو مسترد کر دی جاتی ہیں وہ وہیں چھوڑ دی جاتی ہیں، اور اگر یہ (اٹھائے جانے کا غیبی عمل) نہ ہوتا تو وہاں کنکریوں کا ڈھیر ایک بالشت سے بھی کہیں زیادہ بلند ہو چکا ہوتا۔“