المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الدَّفْعِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ باب: مزدلفہ سے کوچ کرنے اور روانہ ہونے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ثَنَا أَبُو عَامِرٍ هُوَ الْعَقَدِيُّ - ثَنَا زَمْعَةُ - هُوَ ابْنُ صَالِحٍ - عَنْ سَلَمَةَ - هُوَ ابْنُ وَهْرَامٍ - عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقِفُونَ بِعَرَفَاتٍ ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ عَلَى رُؤُوسِ الْجِبَالِ كَأَنَّهَا الْعَمَائِمُ عَلَى رُؤُوسِ الرِّجَالِ ، أَفَاضُوا ثُمَّ وَقَفُوا بِالْمُزْدَلِفَةِ ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ عَلَى رُؤُوسِ الْجِبَالِ دَفَعُوا ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الدَّفْعَةَ مِنْ عَرَفَاتٍ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، وَعَجَّلَ الدَّفْعَةَ مِنْ جَمْعٍ ، فَدَفَعَ مِنْهَا حِينَ أَسْفَرَ كُلُّ شَيْءٍ فِي الْوَقْتِ الْأَخِيرِ ، وَصَلَّى فِيهِ بِغَلَسٍ .
أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ مُخْتَصَرًا ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ زَمْعَةَ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دورِ جاہلیت کے لوگ میدانِ عرفات میں وقوف کرتے تھے، پھر جب سورج پہاڑوں کی چوٹیوں پر اس طرح پہنچ جاتا گویا وہ مردوں کے سروں پر عمامے (پگڑیاں) ہوں، تو وہ وہاں سے چل پڑتے تھے۔ پھر وہ مزدلفہ میں قیام کرتے اور جب (اگلے دن) سورج پہاڑوں کی چوٹیوں پر چمکنے لگتا تو وہاں سے کوچ کر جاتے۔ لیکن جب اسلام کا دور آیا تو رسول اللہ ﷺ نے عرفات سے واپسی کے عمل کو سورج غروب ہونے تک مؤخر فرما دیا، جبکہ مزدلفہ سے روانگی میں جلدی فرمائی، چنانچہ آپ ﷺ نے وہاں سے اس وقت کوچ فرمایا جب پو پھٹنے کے بعد آخری وقت میں ہر چیز خوب روشن ہو گئی تھی، حالانکہ آپ ﷺ نے وہاں فجر کی نماز اول وقت کے اندھیرے (غلس) میں ادا فرمائی تھی۔
اس حدیث کو امام احمد نے مختصراً امام ابوداؤد کی سند سے بحوالہ زمعہ روایت کیا ہے۔