المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الدَّفْعِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ باب: مزدلفہ سے کوچ کرنے اور روانہ ہونے کا بیان۔
تَقَدَّمَ قَرِيبًا مِنْهُ شَيْءٌ .
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - أَسْفَرَ بِالدَّفْعَةِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : طُلُوعُ الشَّمْسِ ، يَنْتَظِرُونَ صَنِيعَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ؟ فَدَفَعَ ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - وَدَفَعَ النَّاسُ مَعَهُ ، وَدَفَعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - .
هَذَا مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ ، وَلَهُ حُكْمُ الْمَرْفُوعِ .اس سے قبل بھی اسی مفہوم کی ایک روایت گزر چکی ہے۔ نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے (مزدلفہ سے منیٰ کی جانب) روانگی میں اتنی تاخیر کی کہ خوب سویرا ہو گیا، جس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے (تنبیہاً) فرمایا: ”کیا سورج طلوع ہونے کا انتظار ہے؟ کیا یہ لوگ اب بھی اہل جاہلیت کے طریقے پر عمل کرنا چاہتے ہیں؟“ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما وہاں سے روانہ ہوئے اور لوگ بھی ان کے ہمراہ چل پڑے، جس کے بعد سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی کوچ کر لیا۔
یہ اثر سند کے اعتبار سے صحیح اور موقوف ہے، تاہم سنتِ نبوی کے طریقہ کار کی وضاحت پر مشتمل ہونے کے باعث اسے حکماً مرفوع حدیث ہی تسلیم کیا جائے گا۔