المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الدُّعَاءِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَفَضْلِهِ باب: یومِ عرفہ کی دعا اور اس کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْبَلْخِيُّ ، ثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُبَاهِي الْمَلَائِكَةَ بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ ، يَقُولُ : يَا مَلَائِكَتِي ، انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي ، أَقْبَلُوا يَضْرِبُونَ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ شُعْثًا غُبْرًا . اشْهَدُوا أَنِّي قَدْ أَجَبْتُ دُعَاءَهُمْ ، وَوَهَبْتُ مُسِيئَهُمْ لِمُحْسِنِهِمْ ، وَأَعْطَيْتُ مُحْسِنَهُمْ مَا سَأَلَ ، إِلَّا التَّبِعَاتِ الَّتِي بَيْنَهُمْ . فَلَمَّا أَفَاضُوا وَأَتَوْا جَمْعًا عَاوَدُوا اللهَ تَعَالَى فِي الْمَسْأَلَةِ ، فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى : يَا مَلَائِكَتِي ، عِبَادِي عَاوَدُونِي فِي الْمَسْأَلَةِ ، اشْهَدُوا أَنِّي قَدْ أَجَبْتُ دُعَاءَهُمْ ، وَوَهَبْتُ مُسِيئَهُمْ لِمُحْسِنِهِمْ ، وَأَعْطَيْتُ لِمُحْسِنِهِمْ مَا سَأَلَنِي ، وَكَفَلْتُ عَنْهُمُ التَّبِعَاتِ الَّتِي بَيْنَهُمْ .
1248 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا صَالِحٌ - هُوَ الْمُرِّيُّ - نَحْوَهُ ، وَفِيهِ : وَأَعْطَيْتُ مُحْسِنَهُمْ جَمِيعَ مَا سَأَلُونِي ، غَيْرَ التَّبِعَاتِ الَّتِي بَيْنَهُمْ . وَفِيهِ : مَلَائِكَتِي ، عِبَادِي وَقَفُوا فَعَادُوا إِلَى الرَّغْبَةِ وَالطَّلَبِ ، فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَجَبْتُ دُعَاءَهُمْ . إِلَى آخِرِهِ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ میدانِ عرفات میں ٹھہرنے والوں کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! ذرا میرے ان بندوں کی طرف دیکھو جو پراگندہ بالوں اور گرد آلود چہروں کے ساتھ ﴿مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ﴾ (سورۃ الحج: ۲۷) یعنی ہر دور دراز راستے سے مسافتیں طے کر کے میری بارگاہ میں حاضر ہوئے ہیں۔ تم گواہ رہو کہ میں نے ان کی دعا قبول کر لی ہے، ان کے گناہ گاروں کو ان کے نیکوکاروں کی سفارش پر بخش دیا ہے، اور ان کے نیکوکاروں کو وہ سب کچھ عطا کر دیا ہے جو انہوں نے مجھ سے مانگا، سوائے ان حقوق کے جو ان کے آپس میں ایک دوسرے کے ذمے ہیں۔ پھر جب وہ عرفات سے روانہ ہو کر مزدلفہ پہنچے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دوبارہ گریہ و زاری اور دعا و التجا کی۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے فرشتو! میرے ان بندوں نے مجھ سے دوبارہ سوال کیا ہے، پس تم گواہ رہو کہ میں نے ان کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخش دیا ہے، ان کے خطاکاروں کو ان کے نیکوکاروں کی خاطر معاف کر دیا ہے، ان کے نیکوکاروں کو ان کا مانگا ہوا سب کچھ دے دیا ہے، اور ان کے درمیان موجود باہمی حقوق و مطالبات کی کفالت بھی میں نے خود قبول فرما لی ہے (یعنی میں خود صاحبِ حق کو راضی کر کے ان کے بوجھ ختم کر دوں گا)۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی روایت میں اس کے قریب مفہوم بیان کیا ہے جس میں یہ صراحت ہے کہ ”میں نے ان کے نیکوکاروں کو وہ تمام چیزیں عطا کر دیں جو انہوں نے مجھ سے مانگی تھیں، سوائے ان باہمی حقوق کے۔“ نیز اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”اے میرے فرشتو! میرے بندے ٹھہر گئے اور انہوں نے دوبارہ کمالِ رغبت اور طلب کے ساتھ میری طرف رجوع کیا ہے، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی پکار قبول کر لی ہے۔“ آخر تک۔