المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الدُّعَاءِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَفَضْلِهِ باب: یومِ عرفہ کی دعا اور اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1247
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا الصَّبَّاحُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ السَّبِيعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : لَا يَبْقَى أَحَدٌ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا غَفَرَ اللهُ تَعَالَى لَهُ . قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : أَلِأَهْلِ الْمُعَرَّفِ يَا رَسُولَ اللهِ ، أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : بَلْ لِلنَّاسِ عَامَّةً .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”عرفہ کے دن کوئی بھی ایسا شخص جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا، باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا۔“ یہ سن کر ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا یہ فضیلت صرف میدانِ عرفات میں حاضر ہونے والوں (حاجیوں) کے لیے ہے یا تمام لوگوں کے لیے عام ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلکہ یہ تمام لوگوں کے لیے عام ہے۔“