❮
❯
حدیث نمبر: 1246
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ ، ثَنَا أَبِي ، ثَنَا طَالِبُ بْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنِي أَهْلُنَا ، أَنَّهُمْ سَمِعُوا جَدِّي ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ : أَلَا إِنَّ اللهَ تَعَالَى نَظَرَ إِلَى هَذَا الْجَمْعِ فَقَبِلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَشَفَّعَ مُحْسِنَهُمْ فِي مُسِيئِهِمْ ، فَتَجَاوَزَ عَنْهُمْ جَمِيعًا .
ترجمہ

امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ طالب بن سلم کے اہل خانہ نے اپنے دادا سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس دن ارشاد فرمایا: ”آگاہ ہو جاؤ! بے شک اللہ تعالیٰ نے اس مجمع کی طرف نظرِ رحمت فرمائی ہے، چنانچہ ان کے نیکوکاروں کی نیکیوں کو قبول فرما لیا، اور ان کے نیک لوگوں کو ان کے گناہ گاروں کے حق میں سفارشی بنا دیا، اور ان تمام لوگوں سے درگزر فرما لیا۔“
یہ روایت میدانِ عرفات میں بارگاہِ الٰہی سے ہونے والی عمومی بخشش اور صاحبانِ خیر کی برکت سے خطاکاروں کی معافی کی عظیم خوشخبری پر مشتمل ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1246
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 4947، 4948، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2588»