المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الدُّعَاءِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَفَضْلِهِ باب: یومِ عرفہ کی دعا اور اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1246
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ ، ثَنَا أَبِي ، ثَنَا طَالِبُ بْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنِي أَهْلُنَا ، أَنَّهُمْ سَمِعُوا جَدِّي ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ : أَلَا إِنَّ اللهَ تَعَالَى نَظَرَ إِلَى هَذَا الْجَمْعِ فَقَبِلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَشَفَّعَ مُحْسِنَهُمْ فِي مُسِيئِهِمْ ، فَتَجَاوَزَ عَنْهُمْ جَمِيعًا .ترجمہ
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ طالب بن سلم کے اہل خانہ نے اپنے دادا سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس دن ارشاد فرمایا: ”آگاہ ہو جاؤ! بے شک اللہ تعالیٰ نے اس مجمع کی طرف نظرِ رحمت فرمائی ہے، چنانچہ ان کے نیکوکاروں کی نیکیوں کو قبول فرما لیا، اور ان کے نیک لوگوں کو ان کے گناہ گاروں کے حق میں سفارشی بنا دیا، اور ان تمام لوگوں سے درگزر فرما لیا۔“
یہ روایت میدانِ عرفات میں بارگاہِ الٰہی سے ہونے والی عمومی بخشش اور صاحبانِ خیر کی برکت سے خطاکاروں کی معافی کی عظیم خوشخبری پر مشتمل ہے۔