المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الدُّعَاءِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَفَضْلِهِ باب: یومِ عرفہ کی دعا اور اس کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا بِشْرٌ - هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ - ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، يَرْفَعُهُ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِلَالًا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - غَدَاةَ جَمْعٍ يُنَادِي فِي النَّاسِ : أَنْ أَنْصِتُوا ، أَوِ اصْمُتُوا ، فَفَعَلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ اللهَ تَعَالَى قَدْ تَطَاوَلَ عَلَيْكُمْ فِي جَمْعِكُمْ ، فَوَهَبَ مُسِيئَكُمْ لِمُحْسِنِكُمْ ، وَوَهَبَ لِمُحْسِنِكُمْ مَا سَأَلَ . ادْفَعُوا بِاسْمِ اللهِ .سیدنا سعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مزدلفہ کی صبح سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں پکار کر کہیں کہ سب خاموش ہو جائیں، چنانچہ جب انہوں نے ایسا کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس اجتماع میں تم پر بڑی وسعت اور مہربانی فرمائی ہے، اس نے تمہارے خطاکاروں کو تمہارے نیکوکاروں کے طفیل معاف کر دیا ہے اور تمہارے نیکوکاروں کو وہ سب کچھ عطا کر دیا ہے جس کا انہوں نے سوال کیا تھا، اب اللہ کے نام «بِسْمِ اللهِ» (اللہ کے نام کے ساتھ) کے ساتھ یہاں سے روانہ ہو جاؤ۔“
محدثین کے نزدیک ’جمع‘ سے مراد مزدلفہ کا مقام ہے اور یہ حدیثِ مبارکہ حجاج کرام کے لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے مغفرتِ عامہ اور قبولیتِ حج کی عظیم خوشخبری پر مشتمل ہے۔