المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمُزَاحَمَةِ عَلَى تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ وَفَضْلِهِ باب: حجرِ اسود کو بوسہ دینے کے لیے ازدحام اور اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1222
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، رَفَعَهُ : لَوْلَا مَا مَسَّهُ مِنْ أَنْجَاسِ الْجَاهِلِيَّةِ ، مَا مَسَّهُ ذُو عَاهَةٍ إِلَّا شُفِيَ ، وَمَا عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجَنَّةِ شَيْءٌ غَيْرُهُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس (حجرِ اسود) کو دورِ جاہلیت کی نجاستوں اور ناپاکیوں نے نہ چھوا ہوتا، تو کوئی بھی بیماری یا تکلیف میں مبتلا شخص اسے مس نہ کرتا مگر یہ کہ وہ شفایاب ہو جاتا، اور روئے زمین پر جنت کی اشیاء میں سے اس (حجرِ اسود) کے سوا اور کچھ بھی موجود نہیں ہے۔“