المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمُزَاحَمَةِ عَلَى تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ وَفَضْلِهِ باب: حجرِ اسود کو بوسہ دینے کے لیے ازدحام اور اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1221
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَّهُ كَانَ إِذَا مَرَّ بِالْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَرَأَى عَلَيْهِ زِحَامًا اسْتَقْبَلَهُ وَكَبَّرَ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ إِيمَانًا بِكَ وَسُنَّةِ نَبِيِّكَ .ترجمہ
امام ابوداؤد طیالسی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ وہ جب حجرِ اسود کے پاس سے گزرتے اور وہاں لوگوں کا شدید اژدہام پاتے تو (ہجوم کی وجہ سے اسے چومنے کی بجائے) اس کی طرف رخ کر کے اللہ کی کبریائی بیان کرتے اور یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ إِيمَانًا بِكَ وَسُنَّةِ نَبِيِّكَ» ”اے اللہ! محض تجھ پر ایمان لانے اور تیرے نبی کی سنت کی پیروی کی خاطر (یہ عمل کر رہا ہوں)۔“