المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمُزَاحَمَةِ عَلَى تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ وَفَضْلِهِ باب: حجرِ اسود کو بوسہ دینے کے لیے ازدحام اور اس کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ هُوَ ابْنُ فَرُّوخَ ، ثَنَا جَرِيرٌ هُوَ ابْنُ حَازِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَنَّهُ كَانَ يُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنِ ، فَإِذَا رَأَوْهُ أَوْسَعُوا لَهُ . قَالَ نَافِعٌ : فَلَقَدْ وَقَعْتُ يَوْمًا فِي زِحَامِ النَّاسِ ، فَوَضَعَ رَجُلٌ مِرْفَقَهُ مِنْ خَلْفِي ، وَوَقَعَ الرَّجُلُ مِنْ أَمَامِهِ ، وَوَقَعْتُ مِنْ خَلْفِي ، فَمَا ظَنَنْتُ أَنْ أَنْقَلِبَ حَتَّى يَقْتُلُونِي ، وَأَبَى هُوَ إِلَّا أَنْ يَتَقَدَّمَ .سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ حجرِ اسود کے پاس پہنچنے کے لیے ہجوم میں راستہ بناتے ہوئے آگے بڑھتے تھے، چنانچہ جب لوگ انہیں دیکھتے تو ان کے احترام میں راستہ چھوڑ کر جگہ کشادہ کر دیتے۔
امام نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بھی لوگوں کے اس شدید ازدحام میں پھنس گیا، ایک شخص نے میرے پیچھے سے اپنی کہنی مجھے دے ماری جس کے دباؤ سے میرے سامنے والا شخص بھی گر پڑا اور میں بھی پیچھے کی جانب گر گیا، اس وقت مجھے یہ خوف محسوس ہونے لگا کہ میں اب سلامت واپس نہیں مڑوں گا بلکہ یہ ہجوم مجھے کچل کر ہلاک کر دے گا، لیکن اس سب کے باوجود سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حجرِ اسود تک پہنچنے کے لیے آگے ہی بڑھتے چلے جانے پر بضد تھے۔