المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ قَرْنِ الطَّوَافِ باب: متعدد طواف مسلسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1219
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، ثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ أَبِي الْجَنُوبِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْفَجْرِ ، ثُمَّ صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ يَلْتَفِتُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ يَمِينًا وَشِمَالًا . قَالَ : فَظَنَنَّا أَنَّهُ لِكُلِّ أُسْبُوعٍ رَكْعَتَيْنِ ، وَلَمْ يُسَلِّمْ .
إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فجر سے قبل بیت اللہ کا طواف فرمایا، پھر چھ رکعات ادا کیں جن میں آپ ﷺ ہر دو رکعت کے بعد دائیں اور بائیں جانب التفات فرماتے تھے؛ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہمارا گمان یہ تھا کہ آپ ﷺ نے ہر طواف (یعنی سات چکروں کے ایک سیٹ) کے عوض دو رکعتیں ادا فرمائی ہیں، اور آپ ﷺ نے (ان کے درمیان) سلام نہیں پھیرا تھا۔
اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔